اڈکی؍کیرل ،24اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)خاتون باغان اہلکاروں کے خلاف تبصرہ کرکے تنازعہ میں پھنسے کیرالہ کے وزیرتوانائی اور سی پی ایم کے سینئر لیڈر ایم ایم منی نے آج کہا ہے کہ اگر پارٹی کہتی ہے تو وہ استعفی دینے کے لیے تیار ہیں۔اپوزیشن پارٹیوں اور خاتون تنظیموں کی جانب سے منی کے استعفی اور معافی کا مطالبہ کئے جانے کے ایک دن بعد انہوں نے قریب ہی واقع کنچی تھانی میں نامہ نگاروں سے کہاکہ اگر میری پارٹی کہتی ہے، تبھی میں استعفی دوں گا۔منی نے اپنی تبصرے میں دراصل ضلع میں خاتون باغان اہلکاروں کی ایک تنظیم کی خاتون کارکنوں کے کردار پر سوال اٹھا یا تھا، ان کے تبصرے کی مختلف لوگوں نے تنقید کی تھی ، ان کی اپنی پارٹی کے کچھ ارکان نے بھی ان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔وزیر اعلی پنرائی وجین نے کہا تھاکہ اگر خواتین کے خلاف کوئی بھی اشتعال انگیز بیان دیا گیا ہے، تو یہ غلط ہے۔خاتون اہلکاروں کے خلاف اپنے مبینہ اشتعال انگیز تبصرے کے لیے 70سالہ وزیر ایم ایم منی نے کل افسوس کا اظہاربھی کیا تھا۔وہیں خاتون اہلکاروں نے منی کو ہٹائے جانے کے مطالبہ کو لے کر تحریک شروع کر دی تھی ۔منی نے یہ بھی دعوی کیا کہ ان کے بیان کی میڈیا نے غلط تشریح کی ہے اور انہوں نے خاتون اہلکاروں کے خلاف کوئی اشتعال انگیز تبصرہ نہیں کیا تھا ۔منی نے یہ بھی کہا کہ وجین اور پارٹی کے ریاستی سکریٹری کوڈی ییر ی بال کرشنن نے ان سے فون پر بات کی تھی اور ان سے وضاحت طلب کی تھی۔حالانکہ اپنے متنازعہ تبصرے کے لیے مشہور منی نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ انہیں وہاں بیٹھ کر تحریک کرنے دیجئے ۔